پٹرول اور ڈیزل پر 15روپے فی لٹر کم کردیے۔
کرفیو نہ لگانے کا فیصلہ۔

بجلی کے 300 یونٹ خرچ کرنے والے بل 3 ماہ کی اقساط میں ادائیگی۔
یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے مزید 50 ارب روپے مختص۔
دالوں سمیت ضروری اشیا کے نرخ کم کرنے کا فیصلہ
کورونا سے ایکسپورٹ اور انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر ہے، ایکسپورٹ انڈسٹری کو 100ارب روپے کے فوری ٹیکس ری فنڈ دینے کا اعلان
چھوٹی صنعتوں اور زراعت کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
سنئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سب سے زیادہ خطرہ کورونا کے خلاف غلط خبروں سے ہے، جب 21 کیسز تھے ہم نے اسی وقت لاک ڈاؤن کردیا تھا۔

اس وقت ضروری یہ ہے کہ افراتفری نہیں پھیلائی جائے، مجھ سے اس وقت میڈیا کی بات نہ کریں، کورونا کی بات کریں، جس طرح کی میڈیا آزادی پاکستان میں ہے چیلنج کرتا ہوں کہ مغرب میں بھی حاصل نہیں۔

مزدوروں کے لیے 200 ارب روپے رکھے ہیں، مشکل حالات میں پھنسے خاندانوں کے لیے 150 ارب روپے رکھے ہیں،ان خاندانوں کو 3 ہزار ماہانہ دیں گے۔

موجودہ حالات میں پناہ گاہیں پھیلا رہے ہیں، کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے بعد لوگوں کو پناہ گاہ آنے اور کھانے کی اجازت ہوگی۔

آج سب سے زیادہ خطرہ کورونا کے خلاف میں غلط خبروں سے ہے، جب 21 کیسز تھے ہم نے اسی وقت لاک ڈاؤن کردیا تھا۔

اس وقت ضروری یہ ہے کہ افراتفری نہیں پھیلائی جائے، مجھ سے اس وقت میڈیا کی بات نہ کریں، کورونا کی بات کریں، جس طرح کی میڈیا آزادی پاکستان میں ہے چیلنج کرتا ہوں کہ مغرب میں بھی حاصل نہیں۔

لاک ڈاؤن کی قسمیں ہیں اور آخری قسم کرفیو ہے، ہم ملک بھر میں کرفیو کے متحمل نہیں ہوسکتے، کیا ہم کچی آبادیوں میں کھانا پہنچاسکتے ہیں۔

جتنی تیزی سے ہم نے کام کیا چیلنج کرتا ہوں کہ کسی ملک میں اگر ایسا ہوا ہو تو بتائیں، 18ویں ترمیم کے بعد صوبے فیصلوں میں خود مختار ہیں، وفاق صرف مشورہ دے سکتا ہے۔

میں اگر اٹلی یا فرانس میں ہوتا تو کرفیو لگا دیتا، ٹرانسپورٹ بند کرنے سے سپلائرز کا مسئلہ آتا ہے، ہمیں کل پتہ چلا کہ کراچی میں پورٹ بند ہونے سے دالیں وہیں رک گئیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ہم سب کو ایک ہفتے بعد اس کا جائزہ لینا ہے، اگر ہمیں کرفیو بھی لگانا پڑے تو اس کی بھی تیاری کرنا پڑے گی، یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ نہیں ہوسکتا ہے کہ 6ماہ چلے۔